رانچی ،05؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )جھارکھنڈ کی دارالحکومت رانچی سے تقریبا دیڑھ سو کلومیٹر دور چترا ضلع کے اٹکھور کے راجا کیندواہ گاوں میں ریپ کے بعد لڑکی کو زندہ جلانے کے معاملہ میں پولیس نے 14 ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے ۔ پولیس کمشنر جتندر سنگھ نے بتایا کہ گاوں کے مکھیا تلیشوری دیوی کے ساتھ ساتھ دو لوگوسے معاملہ میں پوچھ گچھ چل رہی ہے ۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگور داس نے ملزمین کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
چترا کے سب کلکٹر انور حسین نے بتایا کہ متاثرہ کے خاندان کو حالیہ ایک لاکھ روپیے کی رقم دی گئی ہے ۔
پولیس کمشنر سنگھ نے بتایا کہ اجتماعی عصمت دری کے بعد پنچایت نے متاثرہ کے خاندان سے کہا کہ ملزم سے 100 اٹھ بیٹھک کروا کر اور 50 ہزار روپیے لےکر معاملہ ختم کر دو۔ متاثرہ کا خاندان ا س بات کے لئے راضی نہیں ہوا تو ملزم کے اہل وعیال نے نابالغہ کے والد کی پنچایت میں ہی پٹائی کر دی اور گھر میں گھس کر متاثرہ کو زندہ جلا دیا ۔
پولیس نے لاش برامد کر کے اسے پوسمارٹم کے لئے بھیج دیا ہے ۔ تھانہ میں متاثرہ کے والد کے بیان کی بنیاد پر کئی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔
علاوہ ازیں کہ لڑکی کے والد کے مطابق ، کونی پنچایت کے راجا کینوہ گاوں کا ایک شخص دھنو بھوئیا ںجمعرات کے روز رات میں اس کی بیٹی کو بہلا پھسلا کر بائک سے کہیں لے گیا ۔ واپس لوٹنے پر لڑکی نے اپنے گھر والوںکو بتایا کہ دھنو بھوئیا ںنے اس کے ساتھ ریپ کیا ہے ۔ اس کی شکایت خاندان والوں نے پنچایت میں کی ۔ جمعہ کے روز صبح پنچایت بیٹھی ۔ اس میں مکھیا تلیشوری دیو اور دیگر پانچوں نے معاملہ ختم کرنے کا فیصلہ لیا۔ جس کے بعد متاثرہ کا قتل کر دیا گیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ اکھیلش وی واریر اور ڈی ایس پی پتامبر سنگھ خیروار نے شام کو علاقہ میں جاکر معائنہ کیا اور لڑکی کے خاندان والوں سے معلومات حاصل کی ۔ انہوں نے ملزموں کے گھر کی بھی تلاشی لی ۔
وزیر اعلیٰ نے معاملہ میں ٹویٹ کر کے کہا ’’ چترامیں ہوئے دل دہلانے والا حادثہ سے میں کافی تکلیف میں ہوں ۔بہتر سماج میں اس قسم کی درندگی کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ انتظامیہ کو مجرموں کے خلاف فوراََ کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے ، مجرموں کو بخشا نہیں جائےگا ‘‘۔